تحریر: آغا زمانی سکردو
حوزہ نیوز ایجنسی| بعض چہرے زندگی میں بہت دیر سے سمجھ آتے ہیں مگر پہلی نظر میں دل پر نقش ہو جاتے ہیں۔ میری یادداشت کے دریچے میں بھی ایک ایسا ہی منظر محفوظ ہے جب میں شاید آٹھ یا نو برس کا تھا۔ میرے دادا جان(مولانا آغا رضا شاہ رضوی مرحوم) مجھے اپنے ساتھ رضویہ سوسائٹی کراچی میں مرحوم آغا سید محمد علی شاہ المعروف آغا حسینی کی رہائشگاہ لے گئے۔ وہاں علماء، مومنین اور معزز شخصیات کی ایک بڑی محفل سجی ہوئی تھی۔ میں خاموشی سے دادا جان کے پہلو میں بیٹھا ایک ایک چہرے کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ انہی چہروں کے درمیان ایک چہرہ ایسا تھا جو باقی سب سے جدا محسوس ہوتا تھا۔ وجاہت، وقار اور نورانیت کا ایسا امتزاج کہ میری نظریں بار بار اسی سمت کھنچ جاتی تھیں۔ میرے ذہن میں سوال جنم لینے لگے، میں نے آہستہ سے دادا جان سے پوچھا:
دادا جان، یہ کون ہیں؟
انہوں نے محبت بھرے لہجے میں جواب دیا:
یہ ہمارے قائد ہیں، علامہ آغا سید عارف حسین الحسینی۔
اس وقت شاید میری عمر اتنی نہ تھی کہ اس نام کی عظمت کو سمجھ سکتا مگر حقیقت یہ ہے کہ اس زمانے میں پوری قوم بھی شاید اس گوہرِ نایاب کی اصل قدر سے پوری طرح آگاہ نہ تھی۔
وقت گزرتا گیا۔ پھر ایک دن ہمارے گھر بلتستانی محلہ ایبی سینیالائن میں، ہماری چاچی کے سنکرمو کھرمنگ والے بھائی سید جعفر شاہ رضوی مرحوم پشاور سے آئے۔ ان کی قمیض کے گریبان پر ایک بیج لگا ہوا تھا، جس پر اسی نورانی شخصیت کی تصویر ثبت تھی۔ میں نے تجسس سے پوچھا:
آپ نے یہ تصویر کیوں لگائی ہوئی ہے؟
سید جعفر شاہ مرحوم نے آہستگی سے کہا:
انہیں عالمی استعماری ایجنٹوں نے پانچ اگست 1988ء کو ان کے مدرسے میں فجر کے وقت گولی مار کر شہید کر دیا۔ ہم پیواڑ میں ان کے چہلم کے جلسے میں شرکت کرکے واپس آئے ہیں۔
یہ الفاظ میں نے سنے ضرور مگر اس عمر میں ان کی گہرائی کو محسوس کرنا آسان نہ تھا۔ شہادت، قیادت، استعمار اور قربانی جیسے مفاہیم ابھی میرے شعور کے دروازے پر پوری طرح دستک نہیں دے سکے تھے۔ پھر زندگی نے ایک نیا موڑ لیا۔ بانی انقلابِ اسلامی امام خمینی رضوان اللہ علیہ کے چہلم کے بعد ہم ملیر جعفرطیار سوسائٹی منتقل ہوگئے۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں میری فکری تربیت کے دروازے کھلنے لگے۔ ملیر کی فضا میں مجھے ایسے نوجوانوں کی رفاقت نصیب ہوئی جن کے انداز، گفتگو اور کردار میں ایک الگ وقار تھا۔ وہ ملتے تو محبت سے سلام کرتے، مصافحہ کرتے، ایک دوسرے کا نام احترام سے لیتے۔ نماز کے وقت مسجد جاتے، باجماعت نماز ادا کرتے اور پھر مسجد کے کسی گوشے میں بیٹھ کر دین، عقائد اور بنیادی اسلامی احکام پر گفتگو کرتے۔ میں اس وقت چھٹی جماعت کا طالب علم تھا۔ عمر چھوٹی تھی مگر مشاہدہ وسیع ہو رہا تھا۔ ہر جمعہ غازی چوک کے قریب حسینی لائبریری میں یہ نوجوان جمع ہوتے۔ ٹی وی پر وی سی آر کے ذریعے ایرانی اسلامی انقلاب کی فلمیں دکھائی جاتیں۔ فلم ختم ہونے کے بعد فکری نشست شروع ہوتی۔ وہاں سیرتِ محمد و آلِ محمد علیہم السلام، امام خمینی رضوان اللہ علیہ کی فکر اور شہید قائد علامہ سید عارف الحسینی رحمتہ اللہ علیہ کے فرامین پر گفتگو ہوتی۔ یہ آئی ایس او پاکستان یعنی امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے نوجوان تھے۔
آج جب ماضی کی طرف پلٹ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ میری شخصیت کی تعمیر میں کئی ہاتھ شامل رہے۔ میرے دادا جان اور دادی جان کی تربیت نے کردار کی بنیاد رکھی جبکہ آئی ایس او پاکستان کے سینئر برادران نے میری فکری و نظریاتی سمت متعین کی۔ ان کی شفقت، رہنمائی اور اخلاص میرے لیے ایک نعمت سے کم نہ تھے۔ پھر 1995ء میں مجھے ایک ایسی کتاب پڑھنے کا موقع ملا جس نے میرے اندر شہید قائد کی شخصیت کو نئی روشنی میں آشکار کیا۔ یہ کتاب تھی برادرِ بزرگوار تسلیم رضا خان کی شہرۂ آفاق تصنیف ''سفیرِ نور''۔ یہ صرف ایک کتاب نہ تھی بلکہ احساسات، تاریخ، عقیدت اور قربانی کا سفر تھی۔ خود مصنف نے لکھا تھا کہ انہوں نے اس کتاب کا ایک ایک لفظ باوضو ہوکر تحریر کیا۔ جب میں نے کتاب کا انتساب پڑھا تو یوں محسوس ہوا جیسے پوری کتاب کی روح انہی چند سطروں میں سمٹ آئی ہو:
''مقتل میں بہنے والے شہید کے خون کے پہلے قطرے کے نام، جو 61 ہجری کی کربلا میں بہنے والے پاک خون سے متصل ہوا اور۔۔۔ ارجعی الیٰ ربک کی منزل پر فائز ہو کر ہر دور کے حسینیوں کو نئی کربلائیں سجانے کا عزم دے گیا۔''
یہ الفاظ دل میں اترتے چلے گئے۔ میں نے کتاب مسلسل پڑھنا شروع کی اور دو دن کے اندر اسے مکمل کر لیا۔ کئی مقامات ایسے آئے جہاں بے اختیار آنکھیں نم ہو گئیں۔ خصوصاً شہید قائد کے ملازمین کے ساتھ حسنِ سلوک، ان کی اقتصادی سادگی، روحانیت، کشف و کرامات، اور قاتلوں کی گرفتاری و اعترافی بیانات نے دل پر گہرا اثر چھوڑا۔ اس کتاب نے مجھے پہلی بار شدت سے احساس دلایا کہ قوم نے کتنی قیمتی شخصیت کھو دی۔ سفیرِ نور کی تمہید، جسے ''تکمیلِ احساسات کا سفر'' کا عنوان دیا گیا خود ایک مستقل ادبی اور فکری تحریر محسوس ہوتی ہے۔ اس میں برادر تسلیم رضا خان نے ایک سوال اٹھایا:
''آنے والی نسلیں گھروں میں آویزاں تصاویر کو دیکھ کر، یا محفلوں میں تذکرے سن کر اپنے بزرگوں سے پوچھ سکتی ہیں کہ وہ کون تھے؟ زمانہ انہیں کیوں یاد کرتا ہے؟ محافل میں ان کے حوالے کیوں دیے جاتے ہیں؟ آخر انہوں نے ایسا کیا کیا تھا؟''
یہ جملے بانی صدر آئی ایس او شہید ڈاکٹر محمد علی نقوی کے تھے، جو انہوں نے 10 مئی 1992ء کو ایک سفر کے دوران کہے تھے۔ ان الفاظ نے صرف مصنف کے ذہن کو نہیں جھنجھوڑا بلکہ پڑھنے والے کے اندر بھی سوالات جگا دیے۔
کتاب میں درج ایک اور احساس انگیز مکالمہ آج بھی ذہن میں محفوظ ہے۔ جب برادر راشد عباس نقوی نے کہا:
''اپنے محسن کے احسانات کا کم از کم بدلہ یہی ہو سکتا ہے کہ ان کی یادوں کو زندہ رکھا جائے تاکہ ان کے احسانات تاریخ کے دوش پر سفر کرتے ہوئے آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتے رہیں۔''
یہ جملے محض الفاظ نہیں تھے یہ ایک عہد تھا، ایک احساس تھا اور ایک ذمہ داری تھی۔ میں نے سفیرِ نور کو صرف ایک مرتبہ نہیں بلکہ پانچ سے چھ بار مکمل توجہ اور فہم کے ساتھ پڑھا۔ ہر بار کوئی نیا پہلو سامنے آتا۔ کبھی شہید قائد کے خاندانی پس منظر نے متاثر کیا، کبھی ان کی ابتدائی تعلیم، کبھی نجف میں امام خمینی رضوان اللہ علیہ سے وابستگی، کبھی قم المقدسہ میں قیام اور کبھی پاراچنار میں ان کی مجاہدانہ جدوجہد۔ کتاب کے اہم موضوعات میں تحریک نفاذ فقہ جعفریہ پاکستان کا قیام، 6 جولائی 1980ء کا تاریخی شیعہ کنونشن اسلام آباد، علامہ مفتی جعفر حسین رحمتہ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد مسئلہ قیادت، ضیاء الحق کے ریفرنڈم کا بائیکاٹ، اتحاد بین المسلمین کی جدوجہد، انقلاب اسلامی ایران، فلسطین و لبنان کے مسائل، اور لاہور میں 6 جولائی 1987ء کے تاریخی خطاب کا مکمل متن شامل تھا۔ خاص طور پر شہید قائد کا 6 جولائی 1987ء کا خطاب میں نے بارہا پڑھا اور متعدد مرتبہ آڈیو کیسٹ کے ذریعے سنا۔ ہر مرتبہ محسوس ہوا کہ یہ خطاب ایک فکر، ایک درد، اور ایک انقلابی شعور کی صدا ہے۔ یوں سفیرِ نور کے مطالعے نے میرے لیے شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت کے دروازے کھول دیے۔ وہ شخصیت جو بچپن میں ایک نورانی چہرے کے طور پر ذہن میں محفوظ ہوئی تھی، اب ایک عظیم قائد، مصلح، مفکر اور تاریخ ساز انسان کے طور پر سامنے آچکی تھی۔
شہادت بعض شخصیات کو تاریخ سے بلند کر کے ایک دائمی شعور میں بدل دیتی ہے۔ ایسے لوگ جسمانی طور پر رخصت ضرور ہوتے ہیں، مگر ان کی فکر، ان کا لہجہ اور ان کا کردار زمانوں تک دلوں میں زندہ رہتا ہے۔ شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمتہ اللہ علیہ بھی انہی شخصیات میں سے تھے جن کی جدائی صرف ایک فرد کا فقدان نہیں بلکہ ایک عہد کے بچھڑ جانے کا احساس تھی۔ رہبرِ کبیر حضرت امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے شہید قائد کی شہادت پر جو تاریخی تعزیتی پیغام دیا، وہ ملت اسلامیہ کے لیے ایک عظیم روحانی سند بھی ہے۔ امام خمینی نے لکھا:
''علامہ عارف حسین الحسینی کی مثال کو سامنے رکھ کر غور کریں کہ ایک مومن کے لیے اس سے بڑی سعادت کیا ہو سکتی ہے کہ وہ محرابِ عبادتِ حق سے خون آلود چہرہ لیے ارجعی الیٰ ربک کی منزل پر پہنچے۔ نہ صرف خود جامِ شہادت نوش کرے بلکہ ہزاروں تشنگانِ عدالت کو بھی سرچشمۂ نور سے سیراب کر جائے۔''
اسی پیغام میں امام خمینی رضوان اللہ علیہ نے ایک ایسا جملہ تحریر کیا جو شہید قائد کے مقام اور قربت کی گواہی دیتا ہے:
''میں اپنے عزیز بیٹے سے محروم ہو گیا ہوں۔'' یہ الفاظ اس تعلق کی جھلک تھے جو ایک روحانی باپ کو اپنے فکری فرزند سے ہوتا ہے۔ امام خمینی نے پاکستان کے غیور مسلمانوں کو تاکید کی کہ وہ ''شہید علامہ عارف حسین الحسینی کے افکار کو زندہ رکھیں''، کیونکہ شخصیات رخصت ہو جاتی ہیں مگر افکار اگر محفوظ رہیں تو قومیں زندہ رہتی ہیں۔
گزشتہ شب سکردو کے تاریخی شاہی دیوان میں ایک ایسی روح پرور محفل منعقد ہوئی، جس نے ماضی کی یادوں کو حال کی فضا میں زندہ کر دیا۔ داعیِ وحدت، امام جمعہ والجماعت سکردو بلتستان حضرت علامہ شیخ محمد حسن جعفری حفظہ اللہ کی جانب سے فرزندانِ شہید قائد، عالمِ مبارز آغا سید علی حسینی اور ان کے بھائی سید حسین حسینی کے اعزاز میں ایک پروقار دعوت کا اہتمام کیا گیا. اس محفل میں بلتستان کے جید علماء، معزز شخصیات اور دینی و سماجی حلقوں سے تعلق رکھنے والے افراد شریک تھے۔ میزبان کی حیثیت سے علامہ شیخ محمد حسن جعفری حفظہ اللہ موجود تھے، جبکہ صدر انجمنِ امامیہ بلتستان آغا سید باقر الحسینی، سینئر نائب صدر شیخ زاہد حسین زاہدی، شیخ محمد علی مظفری، آغا سید احمد حسینی، شیخ الیاس قمی، شیخ ذوالفقار علی انصاری، سید قمر عباس حسینی، شیخ ذاکر حسین، شیخ احمد علی ترابی، آخوند یوسف صاحب، شاہد صاحب اور دیگر معززین نے بھی اس محفل کی رونق بڑھائی۔ میرے لیے یہ لمحہ محض ایک دعوت میں شرکت نہ تھا بلکہ ایک روحانی کیفیت سے گزرنے کا تجربہ تھا۔ شہید مظلوم قائد محبوب کے فرزندان کو اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھنا ایک ایسی کیفیت تھی جسے الفاظ میں قید کرنا آسان نہیں۔ بعض جذبات قلم کی گرفت سے آزاد ہوتے ہیں انہیں صرف محسوس کیا جا سکتا ہے۔
جب عالمِ مبارز آغا سید علی حسینی یعنی فرزندِ شہید قائد نے گفتگو کا آغاز کیا تو ان کی آواز میں ایک عجیب سی مٹھاس، وقار اور مانوسیت محسوس ہوئی۔ ان کے نرم لہجے میں ایسی تاثیر تھی کہ یوں لگتا تھا جیسے شہید قائد کی یاد صرف ذہن میں نہیں، فضا میں بھی زندہ ہو گئی ہو۔ ان کی گفتگو میں سنجیدگی بھی تھی، محبت بھی اور ایک ایسی شائستگی بھی جو نسل در نسل منتقل ہونے والی روحانی وراثت کا حصہ محسوس ہوتی تھی۔ اور جب نگاہ سید حسین حسینی پر پڑی تو دل ایک لمحے کے لیے ٹھہر سا گیا۔ ان کے چہرے کی شباہت، اندازِ نشست اور تاثرات میں شہید قائد کی جھلک اس شدت سے محسوس ہوتی تھی کہ یوں لگتا تھا جیسے وقت نے پلٹ کر ایک لمحے کے لیے ماضی کو حال کے سامنے لا کھڑا کیا ہو۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ محبوب قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمتہ اللہ علیہ اپنی جوانی کی تازگی کے ساتھ دوبارہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ یہ منظر صرف آنکھوں سے نہیں، دل سے دیکھا جا رہا تھا۔
اس موقع پر سینئر نائب صدر انجمنِ امامیہ بلتستان شیخ زاہد حسین زاہدی نے اہلِ بلتستان خصوصاً علامہ شیخ محمد حسن جعفری اور علمائے کرام کی جانب سے فرزندانِ شہید قائد کو خوش آمدید کہا۔ انہوں نے ان کی آمد کو سرزمینِ بلتستان کے لیے باعثِ افتخار قرار دیتے ہوئے کہا کہ بلتستان میں رواداری، اخوت اور بین المسالک ہم آہنگی کی ایک روشن روایت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ شیخ محمد حسن جعفری کی قیادت میں مختلف مکاتبِ فکر کو ساتھ لے کر چلنے کی درخشاں روایت اب بھی جاری ہے اور یہی وحدت و ہم آہنگی بلتستان کی اصل خوبصورتی ہے۔ ان کے مطابق بلتستان مختلف مسالک، ثقافتوں اور افکار کا ایک ایسا حسین گلدستہ ہے جہاں اختلاف کے باوجود احترام کی فضا قائم ہے۔ فرزندِ شہید قائد حجۃ الاسلام سید علی حسینی نے اپنے خطاب میں پاراچنار کے مومنین کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ علامہ شیخ محمد حسن جعفری نے ہمیشہ اپنے خطبات اور بیانات میں ان کے حق میں آواز بلند کی۔ انہوں نے آغا باقر الحسینی اور بلتستان کے دیگر علماء کی خدمات کو بھی سراہا، جنہوں نے ہر مشکل وقت میں پاراچنار کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاراچنار اور بلتستان کے درمیان جغرافیائی فاصلے موجود ہیں مگر دلوں کی قربت نے ہمیشہ ان فاصلات کو کم کر دیا ہے۔ پاراچنار کے عوام بلتستان کے علماء اور مومنین کو عزت، محبت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تقریب کے اختتام پر صدر انجمنِ امامیہ بلتستان آغا باقر الحسینی نے دعا کروائی۔ شہید رہبرِ معظم آیت اللہ سید علی خامنہ ای، شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی، اور دیگر شہدائے اسلام و مرحومین کے ایصالِ ثواب اور بلندیِ درجات کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔
یوں یہ محفل محض ایک رسمی دعوت نہ رہی بلکہ یاد، عقیدت، تاریخ اور محبت کا ایسا سنگم بن گئی جہاں ماضی کی خوشبو دیر تک حال کی فضاؤں میں رچی بسی محسوس ہوتی رہی۔ ان تمام یادوں، مشاہدات اور روحانی وابستگیوں کے درمیان ایک حقیقت پوری شدت سے ابھر کر سامنے آتی ہے کہ عظیم شخصیات صرف تاریخ کے اوراق تک محدود نہیں رہتیں بلکہ نسلوں کے فکر و شعور، کردار اور اجتماعی احساس میں زندہ رہتی ہیں۔ شہید قائد علامہ سید عارف حسین الحسینی رحمتہ اللہ علیہ کی شخصیت بھی ایک ایسے چراغ کی مانند ہے جس کی روشنی زمانے کے اندھیروں میں بھی راستہ دکھاتی ہے۔ بچپن کی ایک جھلک سے شروع ہونے والا یہ تعلق، تربیت، مطالعہ، شعور اور محبت کے مراحل طے کرتے ہوئے ایک گہری فکری وابستگی میں ڈھل گیا۔ آج بھی جب ان کے افکار، ان کے لہجے اور ان کی جدوجہد کا تذکرہ ہوتا ہے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ شہید قائد صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ حال کی ضرورت اور مستقبل کی امید ہیں۔









آپ کا تبصرہ